I'VE poured my WINE

ہم سرد نگر کے باسی ہیں

ہم سرد نگر کے باسی ہیں
اے گرم ہوا کچھ  دیر تو آ
ہر اور  ہوا یوں چلتی ہے
جیسے اک برف کا طوفاں ہو
ہر رنگ گیا ہے ڈھل ایسے
اک رنگ نظر کو دکھتا ہے
اس کارن بھی من دکھتا ہے
پورب کی جبیں پر برف اگے
پچھم کے لبوں پہ آہیں ہیں
اتر دکشن کے ٹو کی طرح
اب چھونے کے قابل بھی نہیں
ہر سمت ابھی طوفانی ہے
اب دن کيسا کہ سورج گم
اب ٹھنڈی راتیں ہیں، پهر بھی
وه چاند تو کم کم رکتا ہے
اس کارن بھی من دکھتا ہے
اب ان راتوں کی محفل میں
وه دھوپ اور آگ اور شعلوں کی
تاریخ کا چرچہ کیسے ہو
اب برف کا راج ہے دھرتی پر
اب برف بھری ہے قصوں میں
اب برف کے لیلا مجنوں ہیں
اب برف کے رادھا، شیام یہاں
اب برف کے رومی، غالب ہیں
اب برف کے ہیں ٹئگور یہاں
اب برف کا راج ہے دھرتی پر
کوئی بھی کہیں پر بھی جائے
بس برف کی ٹھنڈی بانہیں ہیں
ان ٹھنڈی بانہوں میں کب سے
کئی خواب بنے ہیں پتهر سے
کئی جذبوں کی آنکھوں پر اب
اک سرد ہوا کی پٹی ہے
سردی ايسے جھولے جھولے
کہ ان جھولوں میں بهولے سے
اک سانس ا گر ہم لے بھی لیں
دوجی پل میں تھم جاتی ہے
اور دھیرے سے جم جاتی ہے
اور حرف زباں سے پھسلے تو
پل میں بت سا بن جاتا ہے
کئی حرف فضا میں اٹکے ہیں
کئی لفظ ہوا میں لٹکے ہیں
کئی لفظ سمے کی آندهی نے
پربت پــہ زميں پر پـٹـکے  ہیں
اک لفظ جنوں کے جیسا ہے
اس میں بھی جنون نہیں باقی
اک لفظ محبت ہے شاید
تنہا تنہا سا لگتا ہے
اک لفظ ہے انساں کے جیسا
وہ تو لگتا پرديسی ہے
کئی لفظ اڈهنـگے ليٹے ہیں
کئی لفظوں کے کپڑے بھی نہیں
کئی لفظوں کے معنی بھی نہیں
کئی لفظوں کی آواز تو ہے
پر کيا کہ دهنسی ہے برف تلے
کئی لفظ سسکنا چاہیں بھی
تو طوفاں کا ارمان کريں
جيسے طوفان پلـٹتا ہے
يہ لفظ بھی ہلنے لگتے ہیں
ورنہ اس برف کے جادو سے
ہر لمحہ بت بن جائے ہے
ہر سانس کہیں تھم جائے ہے
ہر حرف کہیں جم جائے ہے
پھر گونج کہاں سے آئے ہے
ہم سرد نگر کے باسی ہیں
اے گرم ہوا کچھ دیر تو آ
سورج نہ سہی، گو آگ نہیں
تو اپنی سانسوں کا ایندھن
دھڑکن کے شعلے ليکے آ
اے گرم ہوا کچھ دیر ہی آ
ہم سرد نگر کے باسی ہیں

Post A Comment